ابنا: رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن نمبر ساڑھے گیارہ میں کالعدم دہشت گرد ٹولوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی دہشت گردوں کی فائرنگ سے 60سالہ شیعہ بزرگ قادر بخش شہید ہو گئے۔عینی شاہدین کاکہنا ہے شہید مقامی مسجد و امام بارگاہ علی اکبر علیہ السلام میں متولی کے فرائض انجام دیا کرتے تھے اور وہ مسجد میں نماز ظہرین کی اذان دینے کے لئے جا رہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سوار ناصبی وہابی درندوں نے فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا۔ شہید کے جسد خاکی کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ۔کراچی کے علاقے پہلوان گوٹھ میں ایک اور دہشت گردانہ کاروایی میں شیعہ نوجوان سید مصور حسین ولد سید نظام حسین کالعدم ٹولوں کے دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے شہید ہوگئے۔شہید مصور حسین مدثر حسین عرف چیف کا چھوٹا بھایی ہے جس کو چند روز قبل پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا. واضح رہے کہ ناصبی ٹولوں نے - جن کو جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ) کی پشت پناہی حاصل ہے - گذشتہ شب ایک جلسے میں کھلم کھلا اعلان کیا تھا کہ شہر بھر میں شیعہ افراد کو شہید کیا جائے گا جس کے بعد اگلے ہی روز اورنگی ٹاؤن میں شیعہ بزرگ اور مسجد و امام بارگاہ علی اکبر علیہ السلام کے متولی کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جس میں وہ شہید ہو گئے۔اطلاعات کے مطابق یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ پاکستان اور بالخصوص کراچی میں امریکی دہشت گرد سی آئی اے وہابی دہشت گردوں اور طالبان دہشتگردوں سے مل کر ملک میں بد امنی کی فضا قائم کرنے کے محاذ پر سر گرم عمل ہے جس کے نتیجے میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر ملت جعفریہ کے عمائدین کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔دوسری جانب ملت جعفریہ کی نمائندہ جماعتوں، جعفریہ الائنس پاکستان، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان، مجلس وحدت مسلمین، امامیہ آرگنائزیشن، مرکزی تنظیم عزاء اور شیعہ علماء کونسل سمیت دیگر ملی اور قومی جماعتوں نے کراچی میں شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم دہشت گردو ٹولوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور ملت جعفریہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
ابنا اس ایڈریس پر بھی دستیاب ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110